Layman’s Understanding of Matam (The Mourning Ritual of Shitte)


اسلام کی تاریخ میں ماتم کا تذکرہ پہلی بار غزوہ بدر کے بعد ملتا ہے جب کفّار کے لاشے مکہ پوھنچے تو وہاں ایک کہرام مچ گیا ! عورتیں سڑکوں پر نکل آیین اور گریہ و زاری اور ماتم گیری شروع کر دی ! یہ اس بات کا اظہار تھا کے وہ اپنے پیاروں کے لاشے دیکھ رہے تھے جبکے ان کے قا تل آزاد تھے اور فاتح مند تھے ! مکہ کے کفّار اس بدلے کی آگ میں جل رہے تھے جو کے انہوں نے میدان احد میں بالاخر لے ہی لیا جب ہندہ نے حضرت حمزہ (ر) کے جسم مبارک کا مثلا کیا !

زمانہ قدیم سے ماتم کی یہی تعریف رہی ہے ! حبکے شیعہ حضرت نے اک نیی منطق نکالی ہے ! امام حسین (ر) دشمن خود مر چکا اور اس کے حواری بھی جہنّم وسیل ہو چکے ہیں اور اہل بیت جنّت کی وادیوں کے مزے لوٹ رہے ہیں ! یہاں قاتل جہنّم وسیل ہو چکا ہے اور مقتول جشن منا رہے ہیں ! پھر نجانے یہ بھولے کس لیے اپنے اپ کو پیٹ رہے ہیں ؟ یا تو یہ یزید کے جہنّم میں جانے کے حوالے سے شک میں ہیں یا پھر ان کو اہل بیت کے جنّت الفردوس میں ہونے پر شببہ ہے ؟؟

Advertisements