امّت مرحومہ کی مجرمانہ بے حس رویوں کے نام ! ایک کمزور و خفیف احتجاجی شکوہ


میری بد نصیبی میں ایسے منافقوں میں گھرا ہوا ہوں !

جو کافر کو کافر کہتے ہوے تو شرماتے ہیں !
مگر مسلمانوں کی تحقیر و تکفیر کرتے نہیں تھکتے !

جو یہود و ہنود کی جنسی بے راہ رویوں کو کلّی نظر انداز کرتے ہیں !
مگر مظلوم مسلمانو کو جاہل اور بد نصیب کہتے نہیں تھکتے

جو کفّار کی افواج کو اچھے فوجی یا برے فوجی میں تقسیم تو کرتے ہیں
مگر مجاہدین کو صرف دہشت گرد ہی کہتے ہیں !

جو مغرب میں اپنی عورتوں کو ننگ دھڑنگ گھما کر ماڈرن تو تصور کرتے ہیں
مگر پردے دار خواتین کو مجبور و بدحال کہتے نہیں تھکتے !

جو خود تو پاک دامن شریف ماؤں کی اولاد ہیں
مگر اپنی بیٹیوں کے بوے فرینڈز کو ان کا ذاتی فیصلہ سمجتھے ہیں !

جو قابض حکمرانو کو قا بل تذلیل اور برا تو کہتے ہیں
ان ہی کے حلقوں میں عزت دار بن کے جاتے ہیں !

جو مولویو پر سائنسی علوم سے نہ بلد ہونے کا الزام تو لگاتے ہیں
مگر خود سائنس دان بننے کے بجاے کسی ملٹی نیشنل کے مارکیٹر بن جاتے ہیں !

جو شیعہ سنی مسلے پر بات کرنے کو فرقہ بازی تو سمجتھے ہیں
مگر اپنی ماؤں اور بہنوں سے بد تمیزی کرنے والوں کو بخش نہیں پا تے !

جنہیں مولویوں کی نفرت میں گھلنا تو ہے سہل !
مگر خود اپنی مسجد میں نماز پڑھانے کی زمے داری نہیں اٹھاتے !

جنہیں ہر بات میں بہتر مسلمان ہونے کا زعم تو ہوتا ہے !
مگر خود قرآن و حدیث سے کوئی ریفرنس لا نہیں پا تے !

جنہیں مسلمانو کے لیے بہتر تدبیروں کا تو الہام ہوتا ہے !
مگر خود اس الہام پر چل نہیں پا تے !

جن پر تبلیغ چلوں اور میٹھی میٹھی باتوں کا اثر تو ہوتا ہے بہت !
مگر بینک کی نوکری اور امریکی قونصلیٹ کے چکر چھوڑ نہیں پاتے !

جو دور حاضر کے طاقتوروں کی یلغار کو ان کا حق سمجتے ہیں
مگر یہ حق مسلمانو کو لوٹانے کا سوچ بھی نہیں پا تے !

جنہیں مغربی تعلیم میں نظر اتی ہے امّت کی فلاح
اس مخلوط تعلیم میں بی بی فاطمہ کا پردہ پڑھا نہیں پا تے !

ڈارون کا بندر بننا ہے منظور ! کمال عطا ترک کی تاریخ بھی ہے منظور !
گاندھی بھی ہے منظور ہٹلر بھی ہے منظور !
منکرین زکوات سے یار غار کا جہاد مگر پڑھنا نہیں چاہتے !

پردیسی عورتوں کے حسن کا چرچا تو کرتے ہیں بہت !
شرم کے مارے حوروں کا ذکر کر نہیں پا تے !

جنہیں صلح حدیبیہ تو یاد رہتی ہے مگر
میدان بدر و احد کا جوش دیکھ نہیں پا تے !

جنہیں جنگ جمل و صفین کا تذکرہ تو محبوب ہے مگر
اس شام علی اور عائشہ کا رونا سمجھ نہیں پا تے !

جنہیں محمّد کی سنّتوں سے پیار تو بہت ہے مگر !
نبی کو تا حیات میدان جہد میں دیکھ نہیں پا تے !

جو سا ینسی ایجادات کو مغرب کی فتح اور مولویوں کی ناکامی تو سمجتے ہیں
پرافسوس صد افسوس خود سا ری زندگی کچھ ایجاد کر نہیں پاتے !

Advertisements