Analysis of Grave Worship – A Probabilistic Approach ! اصول مزار پرستی ، ایک تنقیدی جائزہ


! اصول مزار پرستی ، ایک تنقیدی جائزہ

١٠لوگ مزار پر گئے جن میں سے ٢ لوگوں کے مسائل ویسے ہی الله نے حل کر دیے

٣ لوگوں نے سوچا کے بابا جی کسی کام کے نہیں اور پھر اپنی زندگی میں مشگول ہو گئے
٥ لوگوں نے سوچا کے باباجی کو شاید نذرانہ کم دیا یا پھر کوئی خطا ہو گئی ہو ان سے

مگر باقی کے ٢ کامیاب لوگ پھر لوٹے اور مزید

  ١٠ افراد کے سامنے بابا جی کے مزار کی برکت کے گن گانے لگے
کے بابا جی نے ان کی الله سے سفارش کر دی

پھر یہ اضافی ١٠ لوگ مزار پر گئے متاثر ہو کر اور اپنی حاجات لے کر

پھر ان میں سے ٢ کی مسائل ویسے ہی الله نے حل کر دیے

٣ لوگوں متنفر ہوے اور اپنی مشکل کی وجہ سے دوسرے سہاروں کی تلاش میں نکل پڑے
اور باقی کے ٥ حضرت پھر مخمصے کا شاکر ہو گئے

اب تک کل ٤ افراد مراد پا گئے
١٠ لوگ اگلی بار بابا جی کے پاس اور زیادہ عقیدت و نیازمندی کے ساتھ جانے کی تیاری کرنے لگے

بابا جی کی شہرت کے کے قائل کل ١٤ افراد ہو گئے

یعنی مراد پوری ہوئی صرف ٦ کی اور مزار کے ١٤ عقیدت مند تیار ہو گئے
اور صرف تیس فیصد لوگوں کا کام بن پایا

دنیا پچاس فیصد کے اصول پر چلتی ہے ! اگر کسی کام کے ہونے یا نہ ہونے کا چا نس صرف پچاس فیصد ہو تو اسے رینڈم کہا جائے گا ! مثال کے طور پر اگر آپ ایک چونی کو پھینکیں تو اپ کبھی بھی یقین سے نہیں کہ سکتے کے چاند آے گا یا نہیں .. امکانات دونوں کے پچاس فیصد ہی ہوں گے ہمیشہ ہر بار !

مگر یہاں تو دعا قبول ہونے کے امکانات تیس فیصد بھی نہیں نکل رہے پھر بھی عوام الله سے تعلق کے بجے مرحوم روح سے تعلق جوڑنے کے لیے بے قرار ہے

…..
اور چل پڑی مزار کے مجاوروں کی دکان
بابا جی کی قبر پر چادروں کی دکان
بابا جی کے نیاز کے لیے چننے سموسوں کی دکان
آنے والے عقیدت مندوں کے لیے ہوٹلز کی دکان
بابا جی کے نام پر بٹنے والی بریانی کی دیگوں کی دکان

اور مجاوروں کی، سجادہ نشینوں کی اور بدبو دار ناچنے والے افیونچی حضرت کی قدر و منزلت کی دکّان

نہ صحابہ کی تقلید رہی باقی نہ میدان جہد کی فکر رہی باقی
پھر چا ہے ڈرون آ کر زنا بلجبر کر جائے یا پھر سلالہ سے کافر گھس کر موت دے جائے
زرداری مزار پر آ کر چادر چڑھا جائے یا پھر مزاروں پر آ کر طوائفوں کا ناچ دیکھ جائے

بابا جی کی روح کو تڑپ نہیں ہوتی
نہ مجاوروں کے دین سے انگریزی سام راج کو کوئی خطرہ محسوس ہوتا ہے

اس حوالے سےقرآن و حدیث  کے حوالاجات مندرجہ ذیل ہیں

Clarification from Eminent Scholors of Barelwi School of Thought. It is general perception that barelwi muslims supports this mazar parasti, but contrary to that their learned scholors are infact against it.

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کے بریلوی مکتبہ فکر کے لوگ قبر پرستی اور مجاوری کو سپورٹ کرتے ہیں حلانکے حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے. ان پر الزام صرف اتنا ہے کہ کے یہ اس کے خلاف بھر پور آواز نہیں اٹھاتے جس ترھا دیوبندی حضرت پر الزام ہوتا ہے کے وہ دہشتگردی کے خلاف بھر پور آواز نہیں اٹھاتے !

Advertisements